حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائیجیریا کی تحریکِ اسلامی کی کمیٹی «لجنة الحارسان» کے نمائندوں نے ابوجا میں شیخ زکزاکی سے ملاقات کی۔ یہ نشست ایامِ شعبان اور حضرت امام زمانہ (عج) کی ولادت کی مناسبت سے منعقد کی گئی۔
اس موقع پر شیخ زکزاکی نے امام زمانہؑ کے سپاہی بننے کے مقام و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خدمت کے لیے آمادگی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو شخص آج سے خود کو روحانی، فکری اور عملی طور پر تیار نہیں کرے گا، وہ ظہور کے وقت حقیقی خدمت انجام نہیں دے سکے گا۔
انہوں نے ناصران امام مہدیؑ کی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روایات کے مطابق ظہور کے وقت امام کے 313 خاص اصحاب ہوں گے، اس کے بعد 700 افراد اور پھر دیگر طبقات شامل ہوں گے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان 313 خاص ساتھیوں میں بڑی تعداد خواتین کی بھی ہوگی، جو اس بات کی علامت ہے کہ خدمتِ امام کے لیے آمادگی ہر فرد پر لازم ہے۔
رہبرِ تحریک اسلامی نائجیریا نے زور دیا کہ ظہور سے قبل تیاری کرنا شیعوں کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔ انہوں نے «حارسان» کمیٹی کے فرائض بیان کرتے ہوئے کہا کہ حفاظت، پاسداری اور خصوصی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ ہر عمل میں خدا کو پیشِ نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے عوام کی خدمت اور فلاحی سرگرمیوں کو بھی اہم دینی فریضہ قرار دیا۔
شیخ زکزاکی نے اخلاص کو اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے صبر، تحمل، اتحاد اور نظم و ضبط پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عمل خالصتاً للہ ہو تو خواہ اس پر تنقید ہو یا طعنہ زنی، بالآخر اس کا نتیجہ مثبت ہی نکلتا ہے۔
انہوں نے ماضی میں منعقد ہونے والی «حارسان» کی پریڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی اور سیاسی حالات کے باعث فی الحال اس کا انعقاد ممکن نہیں، تاہم جلد ہی حالات بہتر ہونے پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت مختلف علاقوں کے کمانڈروں کو مشاورت کے لیے مدعو کیا گیا ہے اور بہتر تنظیم کے لیے مسلسل اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ